آج کا دن بھی کٹا گزرے ہوئے کل کی طرح
جسمِ ہستی پہ ہیں ہم عضوِ معطّل کی طرح
آگہی بوجھ ہے جو کوہ و فلک سے نہ اٹھا
ہم سبکدوش پھرا کرتے ہیں پاگل کی طرح
تم بھی بے آب و گیاہ ایک زمیں ،خوش نہ حزیں
میں بھی آوارہ پھرا کرتا ہوں بادل کی طرح
اے خدا ہم تو سلجھنے میں الجھ جاتے ہیں اور
حل بھی ہے مسئلہ سا مسئلہ ہے حل کی طرح