ہم بھی عجیب لوگ ہیں دار البقا سے تنگ
دار الفنا میں لڑتے ہیں اپنی بقا کی جنگ
علم اک حجاب ہے جو ہے سودائے نام و ننگ
بے نام و ننگ ہو گئے اچھے رہے ملنگ
ہر شخص اپنے رنگ میں رنگنے لگا ہمیں
شاید چڑھا نہیں ابھی ہم پر خدا کا رنگ
مرنے کی آرزو ہو مگر آرزو تو ہو
وہ آدمی بھی مردہ ہےجس میں نہ ہو امنگ
تم کو گلاب بھاتا ہے اور ہم کو موتیا
آرائے مختلف بھی ہیں گل ہائے رنگ رنگ
دادِسخن اگر نہیں تابِ سخن تو ہے
بے ساز ہم ہیں رقص میں جی میں لیے ترنگ
مرشد بغیر آدمی ایسا ہے جیسے اک
بے ناخدا جہاز یا کوئی کٹی پتنگ
بیچارگی ہے کوئے ملامت ہے یار ہیں
اک وقت وہ بھی تھا کبھی، تھے شاہ بھی دبنگ