(پی آئی اے چھوڑ کر کسی اور ائیر لائن میں جانے پر ایک دوست کی نذر )
پڑی تھی خالی تمھاری کرسی
یہ سوچا کر لیں مزاج پُرسی
کبھی تو چھوڑو یہ رنڈی رونا
کبھی تو ہو بات کچھ مدُھر سی
کبھی تو چھیڑو خدا نے تم کو
جو بانٹے گُل ان گُلوں کا قصّہ
ابھی تو یوں لگ رہا ہے جیسے
سدا سے کانٹے تمھارا حصّہ
کبھی تو کچھ شکر بھی ادا ہو
کہ ایک نالائق آدمی پر
خدا نے کیا کیا کرم کیے ہیں
ادا ہو شکر اب نماز پڑھ کر
تمھاری کرسی کا جو خلا ہے
کوئی اور آ کر کے بھر ہی دے گا
یہ کام دنیا کا کب رکا ہے
کہ کام کوئی بھی کر ہی دے گا
مگر جو وقفہ تھا کام کے بیچ
وہ ظہر پڑھنا وہ چائے پینا
وہ کرنا باتیں جہان بھر کی
وہ وقفہ یادوں کا اک خزینہ
وہ بات بے بات شور کرنا
وہ لمحہ بھر کو بھی چپ نہ رہنا
ہمھی سے لڑنا ہمیں سنانا
وہ باتیں دل کی ہمھی سے کہنا
بغیر سوچے بغیر سمجھے
وہ بات بے بات شور کرنا
وہ کر گزرنا بس اپنے من کی
وہ بعد کرنے کے غور کرنا
یہ سب تمھاری کرامتیں ہیں
یہ سب کسی اور میں نہ ہوں گی
ادارہ پا لے گا کوئی تم سا
مجھے ملے گا نہ تم سا ساتھی
