جب تک چمن سے ہو کے نہ بادِ صبا چلے
اک چیز ہے گلاب بھی کیسے پتا چلے
جب ہنستے ہنستے رو دیے افشا ہوا یہ راز
ہم دل لگی ہی دل لگی میں دل لگا چلے
یا خود سے ہی نبھانے میں سب سے بگاڑ دی
یا خود سے ہی نبھی نہیں سب سے نبھا چلے
دیوانہ خام ہے جو نہ دیوانہ ساز ہو
ہم راہ پر لگے تو سبھوں کو لگا چلے