غزلیں نظمیں ترجمانیاں نثرپارے

خوابِ خرگوش


 بچپن کی اک کہانی مجھے یاد آ گئی 

خرگوش اور کچھوے کی طے دوڑ پا گئی 


بچو تمھیں خبر ہے کہ خرگوش چست ہے 

 کچھوا مگر بچارا ہمیشہ سے سست ہے 


جانا کہاں تلک ہے یہ طے ہو گیا ہدف 

دونوں روانہ ہو گئے مقصود کی طرف 


جا نکلا ایک دور چھلانگیں لگا لگا 

طے کر رہا تھا ایک مسافت ذرا ذرا 


چُست ایک دو ہی جُست میں منزل کے تھا قریب 

پُھرتی جو کام آئی وہی دے گئی فریب


 وہ سوچنے لگا کہ ابھی کچھوا ہوگا دور 

سائے میں پیڑ کے ذرا لیتے ہیں کچھ سرور


 لیٹا جو پیڑ کے تلے مدہوش ہو گیا 

میدانِ کارزار میں خرگوش سو گیا 


 کچھوا چلا تو چلتا رہا مستقل چلا 

مانا جو دل چلا نہ بھی مانا جو دل چلا 


 حیوان سست رَو نے غضب ہی تو کر دیا 

سوتے کو سوتا چھوڑ کے منزل پہ دم لیا 


خرگوش ہَڑبَڑا کے اٹھا سوچنے لگا 

کچھوا تو دور ہوگا کہیں رینگتا ہوا 


خوش خوش چھلانگیں مارتا منزل پہ جب گیا 

 کچھوا کھڑا ہے پہلے ہی سے دیکھتا ہے کیا


خرگوش کا یہ حال تھا کاٹو لہو نہیں

اچھلا بہت ٹھکانے لگی جستجو نہیں  


کچھوے سے سیکھو بچو بنو مستقل مزاج

مت پھرتیاں دکھاؤ بنو معتدل مزاج