آج کا دن بھی کٹا گزرے ہوئے کل کی طرح
جسمِ ہستی پہ ہیں ہم عضوِ معطّل کی طرح
آگہی بوجھ ہے جو کوہ و فلک سے نہ اٹھا
ہم سبکدوش پھرا کرتے ہیں پاگل کی طرح
Bay-laag,a blog by Yasir Shah
آج کا دن بھی کٹا گزرے ہوئے کل کی طرح
جسمِ ہستی پہ ہیں ہم عضوِ معطّل کی طرح
آگہی بوجھ ہے جو کوہ و فلک سے نہ اٹھا
ہم سبکدوش پھرا کرتے ہیں پاگل کی طرح
خُلق نہیں جو خدا کے لیے وہ کچھ بھی نہیں فنکاری ہے
باتیں بنانا اور مسکانا رسم ہے ظاہرداری ہے
دو لفظی بھی ان کے ہاں کی ساری کتب پر بھاری ہے
جب سے پڑھا "وَلِرَبِّكَ فَاصْبِر" صبر میں کیف سا طاری ہے
بچ کے وبا سے بھی مرنا تو ہے اس کی بھی کچھ تیّاری ہے
جلنا بھی تو سیَد صاحب اک مہلک بیماری ہے
ہم بھی عجیب لوگ ہیں دار البقا سے تنگ
دار الفنا میں لڑتے ہیں اپنی بقا کی جنگ
علم اک حجاب ہے جو ہے سودائے نام و ننگ
بے نام و ننگ ہو گئے اچھے رہے ملنگ
میں ہوں شاید وہ مخصّص آدمی
جس کی محفل میں ہے شدت سے کمی
میرے ہونے سے خوشی اور خُرّمی
اور نہ ہونے سے ہے آنکھوں میں نمی
میں نہیں تو انجمن ویران ہے
میرے ہونے سے ہی محفل بھی جمی
الغرض تھیں کتنی ہی خوش فہمیاں
نبضِ ہستی جب نہ تھی اب تک تھمی
مر کے سنتا ہوں اب اپنا ذکرِخیر
"آہ تھا مرحوم اچھا آدمی "
بستی بستی صحرا صحرا رب سے لگا کر لو چلیے
ان کو اپنا کر چلیے اور خود بھی ان کے ہو چلیے
راہِ طلب میں چلتے رہنا کام ہے اپنا سو چلیے
وہ نہ ملیں بھی تو رک مت جائیے آپ تو خود کو کھو چلیے
آدھے خدا کے آدھے جہاں کے ایسے مُخنّث مت بنیے
مردِ خدا بنیے اور ان کے پورے کے پورے ہو چلیے
جوڑنے والوں سے سب جڑتے ہیں جوڑیے توڑنے والوں سے
نفس کو مار کے مل جاتی ہے ایک حیاتِ نو چلیے
Whose woods these are I think I know
His house is in the village though
He will not see me stopping here
To watch his woods fill up with snow
My little horse must think it queer
To stop without a farmhouse near
Between the woods and frozen lake
The darkest evening of the year
He gives his harness bells a shake
To ask if there is some mistake
The only other sound’s the sweep
Of easy wind and downy flake
The woods are lovely, dark and deep
But I have promises to keep
And miles to go before I sleep
And miles to go before I sleep
Robert Frost
1963–1874
بچپن میں ہم کسی کی ناشائستہ اور غیرمہذب بات کا ایک شائستہ اور مہذب جواب اس فقرے سے دیا کرتے تھے :"آدمی جیسا خود ہوتا ہے ویسا ہی دوسروں کو سمجھتا ہے -" کسے خبر تھی کہ یہ معصومانہ، بھولا بھالا ،ننھا منا اور سادہ سا جملہ اپنے اندر ایک بڑا فلسفہ رکھتا ہے -اب جب ایک عمر گزر چکی تو معلوم ہوا کہ اس جملے میں، جسے ہم سرسری طور پر کہتے تھے ، زندگی کا ایک بڑا راز پوشیدہ ہے بقول مجذوبؒ :
بظاہر یہ ہیں چھوٹی چھوٹی سی باتیں
جہاں سوز لیکن یہ چنگاریاں ہیں
دل دیکھ رہے ہیں کبھی جاں دیکھ رہے ہیں
اٹھتا ہے کہاں سے یہ دھواں دیکھ رہے ہیں
اک روزنِ زنداں سے جہاں دیکھ رہے ہیں
خود ہم ہیں کہاں اور کہاں دیکھ رہے ہیں
روتے ہوئے بچے مجھے اچھے نہیں لگتے
روئیں نہ اگر بچے تو بچے نہیں لگتے
بچے وہی اچھے ہیں جو بیٹھے رہیں چپ چاپ
بچے ہی کہاں رہ گئے پھر وہ تو ہوئے باپ
The night has a thousand eyes
And the day but one
Yet the light of the bright world dies
With the dying sun
The mind has a thousand eyes
And the heart but one
Yet the light of a whole life dies
When love is done
― Francis William Bourdillon
جب جنگیں مسلط ہوتی ہیں
گیہوں میں گھن بھی پستا ہے
خوں سرخ ہو چاہے سفید پڑے
اسے رسنا ہے سو رستا ہے
اوپر سے بم جب گرتے ہیں
کب پوچھتے ہیں تم کون میاں
ملّا کیا ہے مسٹر ہے کون
جب آگ لگی تفریق کہاں
ایسی ہستی خدا کی ہستی ہے
دل کی گہرائیوں میں بستی ہے
دل تڑپتا ہے ان سے ملنے کو
چشم دیدار کو ترستی ہے