آج کا دن بھی کٹا گزرے ہوئے کل کی طرح
جسمِ ہستی پہ ہیں ہم عضوِ معطّل کی طرح
آگہی بوجھ ہے جو کوہ و فلک سے نہ اٹھا
ہم سبکدوش پھرا کرتے ہیں پاگل کی طرح
Bay-laag,a blog by Yasir Shah
آج کا دن بھی کٹا گزرے ہوئے کل کی طرح
جسمِ ہستی پہ ہیں ہم عضوِ معطّل کی طرح
آگہی بوجھ ہے جو کوہ و فلک سے نہ اٹھا
ہم سبکدوش پھرا کرتے ہیں پاگل کی طرح
ہم بھی عجیب لوگ ہیں دار البقا سے تنگ
دار الفنا میں لڑتے ہیں اپنی بقا کی جنگ
علم اک حجاب ہے جو ہے سودائے نام و ننگ
بے نام و ننگ ہو گئے اچھے رہے ملنگ
کبھی کبھی وہ حال ہمارا یاد تمھاری کرتی ہے
رنگ جو چیری کے پیڑوں کا بادِ بہاری کرتی ہے
خزاں کی رت میں ہو جاتا ہے حَسیں چناروں کا جو رنگ
تیری جدائی یوں بھی ہماری خاطر داری کرتی ہے
ایسی ہستی خدا کی ہستی ہے
دل کی گہرائیوں میں بستی ہے
دل تڑپتا ہے ان سے ملنے کو
چشم دیدار کو ترستی ہے
کیسی ہیں آپ عافیہ؟، ہم عافیت سے ہیں
پُر ہے شکم ،بفضل و کرم عافیت سے ہیں
جالب وفات پا چکے، ہم عافیت سے ہیں
اس دور کے سب اہل قلم عافیت سے ہیں
مرے آس پاس تھے آپ بھی میں جہاں جہاں سے گزر گیا
ابھی سوچتا ہوں کبھی کبھی میں کہاں کہاں سے گزر گیا
کبھی واپسی میں جو دیر ہو مرے اہلِ خانہ کی خیر ہو
میں تری طلب ترے شوق میں حدِ آشیاں سے گزر گیا
میں کنودہوں، میں عجول ہوں،میں ظلوم ہوں،میں جہول ہوں
مری خوش نصیبی تو دیکھیے تجھے ہر ادا میں قبول ہوں
جسے بلبلوں نے بھلا دیاتجھے یاد ہے میں وہ بھول ہوں
تری یادپھر جو کھلا گئی میں خزاں رسیدہ وہ پھول ہوں
دھیمی آوازکواگنورکیاجارہاہے
اب سنانے کے لیےشورکیاجارہاہے
ہرطرف ہو رہی ہے شخصیتوں کی تائید
نظریّات کو کمزور کیا جا رہا ہے
ماہ و خورشید بھی سفر میں ہیں
شؔاہ صاحب ہنوز گھر میں ہیں
کیا عجب دل میں بھی اتر جائیں
الله والوں کی ہم نظر میں ہیں
کتنے قضیوں کے یوں ہی حل نکلے
راہ لی اپنی اور چل نکلے
آدمی ہو کہ تم گدھے ہو میاں!
کاہے کو اس قدر اٹل نکلے؟
میری غزلیں تو گنگناؤ گے
درد میرا کہاں سے لاؤ گے ؟
بھیگو برسات میں کہ رات گئے
کس کا دروازہ کھٹکھٹاؤ گے ؟