غزلیں نظمیں ترجمانیاں نثرپارے
Loading poetry...

غزل


کیسی ہیں آپ عافیہ؟، ہم عافیت سے ہیں 

پُر ہے شکم ،بفضل و کرم عافیت سے ہیں



جالب وفات پا چکے، ہم عافیت سے ہیں 

اس دور کے سب اہل قلم عافیت سے ہیں 

پیا ملن کی چاہ



جس نے بنایا ہے پیاروں کو خود وہ کتنا پیارا ہوگا 

ہائے وہ دن بھی کیا دن ہوگا جب اس کا نظّارہ ہوگا 


کیا یہی پلکیں وہاں بھی ہوں گی اور اسی ڈھب سے جھپکیں گی ؟

کیا یہی آنکھ وہاں بھی ہوگی ' چھوٹا سا آنکھ کا تارا ہوگا ؟ 

غزل



مرے آس پاس تھے آپ بھی میں جہاں جہاں سے گزر گیا

ابھی سوچتا ہوں کبھی کبھی میں کہاں کہاں سے گزر گیا 



کبھی واپسی میں جو دیر ہو مرے اہلِ خانہ کی خیر ہو 

میں تری طلب ترے شوق میں حدِ آشیاں سے گزر گیا 

غزل

   

میں کنودہوں، میں عجول ہوں،میں ظلوم ہوں،میں جہول ہوں

مری خوش نصیبی تو دیکھیے تجھے ہر ادا میں قبول ہوں


جسے بلبلوں نے بھلا دیاتجھے یاد ہے میں وہ بھول ہوں

تری یادپھر جو کھلا گئی میں خزاں رسیدہ وہ پھول ہوں

غزل

  

یہ جو لڑنے جھگڑنے والے ہیں

جان لیں سب بچھڑنے والے ہیں

کیجے کوشش کہ روح زندہ رہے

جسم تو گلنے سڑنے والے ہیں

غزل


دھیمی آوازکواگنورکیاجارہاہے

اب سنانے کے لیےشورکیاجارہاہے


ہرطرف ہو رہی ہے شخصیتوں کی تائید

نظریّات کو کمزور کیا جا رہا ہے

لبرل گیدڑ



ایک گیدڑکی کٹی دم جو کہیں

کی بیاباں کو بلا کر تقریر



ہائے کمبخت بری چیز ہے پونچھ

پشت سے گویا لٹکتی زنجیر

ایک کمینہ تو ہوگا کم

 

Make yourself an honest man,and then you may be sure there is one less rascal in the world

Thomas Carlyle

 

A person who never made a mistake never tried anything new

Albert Einstein

ابّا سچے تھے

 

By the time a man realizes that his father was right,he has a son who thinks he's wrong

Charles Wadsworth

بِتانا یہ جیون چلانا ہے سائکل



Life is like riding a bicycle,to keep your balance you must keep moving

Albert Einstein

"اختلافِ امّت اور صراطِ مستقیم"پر ایک تبصرہ

 

"اختلافِ امّت اور صراطِ مستقیم" میری ان پسندیدہ کتابوں میں سے ایک ہے کہ جس نے میری زندگی میں انقلاب برپا کر دیا -اس کی اثر آفرینی اور امپیکٹ(impact)کا اندازہ یوں لگائیے کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں اس کتاب کو بین (ban) کر دیا گیا اور صاحبِ تصنیف کو شہید کر دیا جا چکا-یہ تبصرہ لکھتے وقت، یہ کتاب کراچی کے بڑے بڑے کتب خانوں میں بھی دستیاب نہیں تھی -الامان الحفیظ -اس عالم اور علم دشمنی کی کوئی حد ہے -

غزل



کتنے مہان لوگ جہاں سے گزر گئے

کیا چیز ہیں ہم آپ کہ جب وہ بھی مر گئے



افسوس ہم تو عشق کی باتیں ہی کر گئے

شاباش انھیں ہے جن کے محبّت میں سر گئے

تضمین بر شعر منیر ( بزبانِ حالِ شہید)


کچھ اپنے دشمن ہم بھی تھے

کچھ شہر میں اہلِ ستم بھی تھے


کچھ سارے جہاں کا درد بھی تھا

کچھ اپنے ہم کو غم بھی تھے

تاویل


نظم ہم نے جویہ حکایت کی

ابنِ جوزیؒ سے ہے روایت کی


ایک دن ایک سگ نے ہمّت کی

شیر کے آگے جا شکایت کی

تَوَلّا


صِدّیقؓ کا جو عشق ہےصِدّیق ہی تو ہے

کرتا ہے مُہر ثبت بر ایمانِ قلب و جاں


فاروقؓ کا جو عشق ہے فاروق ہی تو ہے

کرتا ہے فرق مومن و کافر کے درمیاں

غزل


ماہ و خورشید بھی سفر میں ہیں

شؔاہ صاحب ہنوز گھر میں ہیں



کیا عجب دل میں بھی اتر جائیں

الله والوں کی ہم نظر میں ہیں

غزل


کتنے قضیوں کے یوں ہی حل نکلے

راہ لی اپنی اور چل نکلے


آدمی ہو کہ تم گدھے ہو میاں!

کاہے کو اس قدر اٹل نکلے؟

غزل


میری غزلیں تو گنگناؤ گے

درد میرا کہاں سے لاؤ گے ؟


بھیگو برسات میں کہ رات گئے

کس کا دروازہ کھٹکھٹاؤ گے ؟